دوشنبه , ژوئن 26 2017
مرکزی صفحہ / ڈاکٹر شاہد مسعود کے سوالات کے جوابات / امام مہدی (عج) کو ‘مہدی’ کیوں کہا جاتا ہے؟
dr shahid

امام مہدی (عج) کو ‘مہدی’ کیوں کہا جاتا ہے؟

“مہدی” اسلامی احادیث میں “منجی” کے القابات میں سے ہے اور خاص طور پر اہل تشیع کے اعتقادات میں یہ لفظ ان کے بارہویں امام کے القابات میں سے ہے جو آخری زمانے میں ظہور کرے گا اور دنیا کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ چونکہ پیغمبر اکرم(ص) نے اپنے خاندان میں سے ایک نجات دہندہ کے ظہور کی خوشخبری دی تھی اسلئے مسلمان آپ(ص) کی رحلت کے بعد سے ہی اس منجی کے ظہور کے منتظر ہیں جس کا لقب مہدی ہوگا۔

بعض اسلامی فرقے منجملہ زیدیوں اور عباسیوں نے اپنے قائدین کو مہدی کا لقب دے کر عدل و انصاف کے قیام اور ظلم و جور کے ازالے کا دعوا کرتے ہوئے مہدی موعود پر عقیدہ رکھنے والے سادہ لوح عوام کی توجہ جلب کرنے اور اپنی حکومتوں کو مضبوط کرنے کی کوشش بھی کی ہیں۔ بعض تاریخی شواہد کی رو سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مہدی کا لقب صدر اسلام میں عظمت اور بزرگی کے عنوان سے بعض بزرگوں کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ پہلا شخص جس نے لفظ مہدی کو منجی کے عنوان استعمال کیا وہ ابو اسحاق کعب بن ماتہ بن حیسوء حمیری متوفای 34ہجری قمری تھا۔

لغوی معنی

صفت مفعولی میں مہدی اسے کہا جاتا ہے جس کی ہدایت خود، خدا کرتا ہے. البتہ کبھی فاعلی معنی میں بھی (ہدایت کرنے والا) استعمال ہوتا ہے. حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے:۔

. . . قائم (عج) کو اس لیے مہدی کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو اس دین کی طرف ہدایت کرے گا جو دین لوگوں کے ہاتھوں سے نکل چکا ہو گا.۔

اس اصطلاح کا آغاز

قرآن کریم:

وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ‌ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ‌ أَنَّ الْأَرْ‌ضَ يَرِ‌ثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ ﴿١٠٥﴾۔

  • اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے۔.۔
انبیاء105

لفط مہدی تجلیل اور بزرگی کے عنوان سے صدر اسلام میں خاص لوگوں کے لئے استعمال کیا جاتا تھا، ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جن سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ مہدی کا لفظ ان دو (ہدایت یافتہ، اور ہدایت کرنے والا) معنوں میں بہت سے لوگوں کے لئے استعمال ہوا ہے. مثال کے طور پر حسان بن ثابت نے مہدی کے لفظ کو اپنے اشعار میں پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے اس صورت میں استعمال کیا ہے.

 
جزاء علی المهدی اصبح ثاویا   یا خیر من وطأ الحصا لا تبعدی

اہل سنت نے حضور اکرم کے بعد اس لفظ کو چار خلیفوں کے لئے استعمال کیا ہے جن کو خلفاء الراشدون المہدیون کے طور پر یاد کیا کرتے ہیں.

سلیمان بن صرد خزاعی نے امام حسین علیہ السلام کو انکی شہادت کے بعد مہدی ابن مہدی کے عنوان سے یاد کیا ہے

مہدی نجات دہندہ کے معنیٰ میں

راجکوسکی، کے قول کے مطابق، ابو اسحاق کعب بن ماتہ بن حیسوء حمیری (م654ق) وہ پہلا شخص ہے جس نے مہدی کو اعتقادی مسائل میں منجی (نجات دینے والے) کے عنوان سے استعمال کیا. البتہ اس نکتہ کا ذکر کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے کہ خلیفہ دوئم عمر بن خطاب نے کعب سے پہلے غیبت کے بارے میں گفتگو کی ہے. جب اس نے سنہ گیارہ ہجری کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وصال کے بعد کہا کہ آپ فوت نہیں ہوئے بلکہ حضرت موسی کی طرح غائب ہو گئے ہیں اور آخرکار غیبت سے واپس آئیں گے.۔

مسلمانوں کے نزدیک مہدی کا مقام

حضرت پیغمبر اکرم (ص):

لو لم يبق من الدهر إلا يوم لبعث الله رجلا من أهل بيتي يملأها عدلا كما ملئت جورا

  • اللہ تعالی میری اہل بیت میں سے ایک فرد کو مبعوث کرے گا جو اس دنیا کو ایسے ہی عدل سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی چاہے دنیا کی عمر میں سے صرف ایک دن ہی باقی رہتا ہو.
سنن ابی داود، ج2، ص310، ح4283.

مہدویت اور اس بات کا اعتقاد کہ حضرت ختمی مرتبت (ص) کے خاندان میں سے آخری زمانے میں ایک شخص آئے گا جو عدل و انصاف کی حکومت بر پا کرے گا اور ظلم و جور کو اس دنیا سے ختم کر دے گا، ایک ایسا عقیدہ ہے جو صدر اسلام سے ہی مسلمانوں کے ہاں رائج تھا۔اہل تشیع کے ہاں اس نجات دینے والے کو مہدی موعود اور قائم آل محمد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے خاندان میں سے “مہدی” کے نام سے ایک شخص کے ظہور کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا کہ “وہ زمین کو اس طرح عدالت اور انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم اور بے عدالتی سے بھری ہو گی”.

اسی لیے مسلمان حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد سے ہی مہدی کے ظہور کا انتظار کرنے لگے.

مہدی پر اعتقاد رکھنے کی اہمیت

یہ ایک حقیقت ہے کہ بہت سے انبیاء کا مہدی کی ولادت، غیبت، ظہور اور امامت کے بارے میں دی جانے والی بشارت دوسرے تمام عقیدتی، سیاسی اور اجتماعی مسائل کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اسناد کی رو سے پتہ چلتا ہے کہ عباسی خلفاء، پہلی صدی ہجری قمری کے آخری سالوں میں ہی مہدویت کے مسئلے اور اس موعود کی ولادت کے بارے میں بہت حساس تھے اور اسی زمانے سے وہ اپنی حکومت کے بارے میں جدیت کے ساتھ سوچنے لگے تھے اور بنی الحسن اور علویوں یعنی بنی ہاشم سے اقتدار کو چھین کر بنی العباس کی طرف منتقل کرنا چاہتے تھے.

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مہدویت کا مسئلہ کیونکہ اسلام کے ابتدائی اور اصلی اصولوں پر مبتنی ہے لہذا ابتدا سے ہی ہمیشہ مسلمانوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے۔ لہذا ہر دور میں مختلف حکومتیں اس مسئلہ کا غلط استعمال کرتی رہی ہیں جو اس مسئلہ کی مسلمانوں کے درمیان اہمیت اور اس کے تاریخی ہونے کی دلیل اور نشانی ہے.

یہ بھی ملاحظہ ہو

marja

اہلِ تشیع میں مرجعیت کیا ہے اورمجتہد کون ہوتا ہے؟

یہاں ہمیں اپنی گفتگو کا آغاز مرجعیت سے پہلے مختصر طور پر تقلید پر کرنا …

پاسخ دهید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *