جمعه , اکتبر 20 2017
مرکزی صفحہ / ڈاکٹر شاہد مسعود کے سوالات کے جوابات / اہلِ تشیع میں مرجعیت کیا ہے اورمجتہد کون ہوتا ہے؟
marja

اہلِ تشیع میں مرجعیت کیا ہے اورمجتہد کون ہوتا ہے؟

یہاں ہمیں اپنی گفتگو کا آغاز مرجعیت سے پہلے مختصر طور پر تقلید پر کرنا ہو گی، تاکہ فلسفہ اجتہاد کہ جس سے مرجعیت وجود میں آتی ہےوہ آسان ہوجائے۔

ہم تقلید پر گفتگو کا آغاز مولا امام حسین (ع) کی حدیث سے کرنا چاہیں گے۔

امام حسین(ع) نے فرمایا۔۔۔

“حجاری الامور و الاحکام علی ایدی العلماء باللہ الامنا علی حلال اللہ و حرامہ”

معاشرے کے امورکی باگ ڈور ایسے معرفت الٰہی رکھنے والے علماء کے ہاتھ میں ہونی چاہیے جوحلال وحرام الٰہی کے پاسدار اور امانت دارہوں ۔

حوالہ : مستدرک الوسائل ، ج ۱۷ ، ص ۳۱۵ ، باب ۱۱

تقلید اسلامی فقہ کی ایک اصطلاح کا نام ہے ۔ دین کے فروعی مسائل میں کسی دوسرے شخص کے بتائے ہوئے احکامات پر عمل کرنے کو تقلید کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔اسلام کے اکثر مکاتب فروع دین میں اس شرط کے ساتھ جواز کے قائل ہیں کہ اگر انسان اس قدر صلاحیت کا مالک نہ ہو کہ وہ قران و سنت سے اسلامی احکام اخذ کر سکے اور نہ وہ احتیاط پر عمل کر سکے تو ایسے شخص کیلئے جائز ہے کہ وہ تقلید پر عمل کرے ۔اس مسئلے کے اثبات کیلئے انہوں نے مختلف دلائل ذکر کئے ہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ یہ یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ مذہب تشیع میں اسلام کے دو حصے بیان کئے جاتے ہیں جن میں سے ایک کو اصول دین جس میں توحید ،عدل، نبوت، امامت اور قیامت ذکر کئے جاتے ہیں، ان میں تقلید کرنا جائز نہیں ہے اور دوسرا حصہ فروع دین کہلاتا ہے اس میں تقلید کرنا ممکن ہوتا ہے ۔

ہر بالغ اور عاقل شخص کو اجمالی طور پر یقین ہے کہ اس کی نسبت کچھ احکام کو بجا لانا یا کچھ کو ترک کرنا ضروری ہے ۔ اس وجہ سے عقل مستقل طور پر کہتی ہے کہ وہ ان احکام کو بجا لا کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے ۔پس ہر بالغ اور عاقل شخص کو چاہئے کہ وہ ان احکام کو واقع کے مطابق انجام دے یا ان سے دوری اختیار کرے یا ایسی چیز پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں بجا لائیں کہ جس کی حجیت کا اسے علم ہو تا کہ اگر وہ خطا کرے تو قیامت کے روز اس کا عذر قابل قبول ہو۔ جس چیز کی حجیت قطعی اور یقینی نہ ہو ایسی چیز پر اعتماد کرتے ہوئے احکامات کو انجام دینا جائز نہیں ہے کیونکہ غیر یقینی حالت میں ان احکامات کو بجا لانے کے باوجود عقاب کا احتمال موجود رہتا ہے ۔پس اس بنا پر ایک عام شخص کو چاہئے کہ وہ اپنے احکامات کی بجا آوری میں ایسے مجتہد کے فتوے پر عمل کرے جس کی حجیت کا اسے یقین ہو ۔

ایک شخص اگر مجتہد بھی نہ ہو اور احتیاط پر عمل بھی نہ کرے اور وہ تقلید کے بغیر اعمال انجام دے تو ایسے شخص کے اعمال باطل ہیں کیونکہ عقلی اعتبار سے قاعدۂ اشتغال(جس چیز کی انجام دہی واجب یا مستحب تھی اس کے ادا ہو جانے کا یقین حاصل نہیں ہوا ) اس عمل کو کافی نہیں سمجھتا ہے ۔لیکن اس باطل ہونے سے یہ مراد نہیں کہ اس عمل کی کوئی ارزش اور قیمت نہیں ہے بلکہ یہ مراد ہے کہ اگر اسے بعد میں علم ہو جاتا ہے کہ اس کا یہ عمل واقع کے مطابق تھا یا تقلید کرنے کی صورت میں اس کے مجتہد کے فتوی کے مطابق تھا اس کا وہی عمل کافی سمجھا جائے گا۔

مجتہد عالم یا اعلم کی شناخت: تین ذریعوں سے مجتہد یا مجتہد اعلم کی شناخت ممکن ہے ۔(ا) جب انسان اہل خبرہ میں سے ہو تو اور خود شخصی طور پر کسی کے اجتہاد کو جانتا ہو ۔(ب)اہل خبرہ میں سے دو عادل شخص کسی کے اجتہاد کے متعلق گواہی دے دیں جبکہ اہل خبرہ میں دوسرے دو افراد اسکے اجتہاد کی نفی نہ کریں ۔(ج):کسی کے بارے میں اس قدر شیوع حاصل ہو جائے کہ جو علم کو موجب بنے ۔

اسی طرح کسی مجتہد کی اعلمیت بھی شخصی علم ،اہل خبرہ میں سے دو عادل شخصوں کی گواہی سے ثابت ہو جائے گی جبکہ اہل خبرہ میں دو عادل شخص اس کی مخالفت نہ کریں یا شیوع کی وجہ سے کسی کی اعلمیت کا علم حاصل ہو جائے ۔

مرجع: اصطلاحی طور پر جامع الشرائط مجتہد ہے جو اسلامی منابع (سورسز) سے شرعی احکام کا استنباط کرتا ہے اور اسی بنیاد پر فتوی دیتا ہے اور لوگوں پر لازم ہے کہ اس کی تقلید کریں۔ البتہ مجتہد کے لئے عدالت سمیت کئی دیگر اوصاف سے بھی متصف ہونا اہئے جن کا ذکر تمام رسالہ ہائے عملیہ کے آغاز پر ہی ہوچکا ہے۔

فتوی کی مرجعیت ایک ہی وقت میں متعدد ہوسکتی ہے یا یوں کہئے کہ ایک ہی وقت میں کئی مراجع تقلید ہوسکتے ہيں اور ہر شخص جس مجتہد کو دوسروں سے زيادہ متقی، عادل اور عالم پائے اسی کی تقلید کرسکتا ہے

جامع الشرائط مجتہد دین کے فرعی موضوعات (فروع دین) اور استنباطی موضوعات میں ـ جن کی لوگوں کو ضرورت ہے ـ فتوی دے سکتا ہے۔ یہ منصب بغیر کسی رکاوٹ کے تمام فقہاء کے لئے ثابت ہے۔

یہ بھی ملاحظہ ہو

imamat

امامت اور خلافت میں کیا فرق هے؟

مختصر جواب:۔ اگرچه اهل سنت کے بعض دانشمند مثلا ابن خلدون کی نظر میں امام …

پاسخ دهید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *