دوشنبه , ژوئن 26 2017
مرکزی صفحہ / ڈاکٹر شاہد مسعود کے سوالات کے جوابات / کیا امام مہدی (عج) کی ولادت ہو چکی ہے ؟ – کتب اہل سنت سے ثبوت!۔
imam mahdi ki wiladat

کیا امام مہدی (عج) کی ولادت ہو چکی ہے ؟ – کتب اہل سنت سے ثبوت!۔

تاریخی اور اہل سنت کی کتابوں میں مراجعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بہت سے علماء نے حضرت مہدی (علیہ السلام) کی ولادت کا اعتراف کیا ہے اور ان کا حسب و نسب ذکر کیا ہے ،ان علماء میں سے بعض کے نام مندرجہ ذیل ہیں :

١۔ علی بن حسین مسعودی (٣٤٦ ھ) کہتے ہیں :«وفی سنه ستین وماتین قبض ابومحمّد الحسن بن علىّ بن محمّد بن على بن موسى بن جعفر بن محمد بن على بن الحسین بن على ابى طالب ـ (علیهم السلام) ـ فی خلافه المعتمد، وهو ابن تسع وعشرین سنه وهو ابوالمهدى المنتظر والامام الثانى عشر…» ((1 ۔ ٢٦٠ ہجری میں ابومحمد حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب (علیہم السلام) کی معتمد عباسی کی خلافت کے زمانہ میں رحلت ہویی ،اس وقت آپ کی عمر ٢٩ سال تھی اور یہ مہدی منتظر اور بارہویں امام کے والد ہیں ۔

٢۔ شمس الدین قاضی ابن خلکان شافعی (٦٨١) کہتے ہیں : «ابوالقاسم محمّد بن الحسن العسکرى، ابن على الهادى، ابن محمّد الجواد المذکور قبله، ثانى عشر الایمه الاثنى عشر على اعتقاد الامامیه المعروف بالحجه… کانت ولادته یوم الجمعه منتصف شعبان سنه 255 هـ ولمّا توفّى ابوه کان عمره خمس سنین»(٢) ۔ ابوالقاسم محمد بن حسن عسکری بن علی ہادی بن محمد جواد شیعوں کے نزدیک بارہویں امام ہیں جو حجت کے نام سے مشہور ہیں ،ان کی ولادت ٢٥٥ ہجری نیمہ شعبان میں جمعہ کے روز ہویی اور جس وقت آپ کے والد کی رحلت ہویی اس وقت آپ کی عمر پانچ سال تھی ۔

٣۔ ابوالفداء اسماعیل بن علی شافعی (٧٣٢) نے ٢٥٤ ہجری کے تاریخی واقعات میں لکھا ہے : «والحسن العسکرى المذکور هو والد محمّد المنتظر صاحب السرداب. ومحمّد المنتظر المذکور هو ثانی عشر الایمه الاثنى عشر على راى الامامیه. ویقال له: القایم والمهدی والحجه…»(٣) ۔ حسن عسکری ، صاحب سرداب محمد منتظر کے والد ہیں ،امامیہ کے نظریہ کے مطابق محمد منتظر بارہویں امام ہیں ، ان کا القاب قایم، مہدی اور حجت ہیں ۔

٤۔ شمس الدین محمد بن طولون حنفی (٩٥٣ھ) نے ایمہ کی سوانح حیات میں لکھا ہے : «وثانى عشرهم ابنه محمّد بن الحسن، وهو ابوالقاسم… کانت ولادته ـ رض ـ یوم الجمعه منتصف شعبان سنه خمس وخمسین وماتین. ولمّا توفّى ابوه المتقدم ذکره ـ رضی الله عنهما ـ کان عمره خمس سنین» (٤) ۔ ان کے بارہویں بیٹے ابوالقاسم محمد بن حسن ہیں ، ان کی ولادت ٢٥٥ ہجری نیمہ شعبان میں جمعہ کے روز ہویی اور جس وقت آپ کے والد کی رحلت ہویی اس وقت آپ کی عمر پانچ سال تھی ۔

٥۔ شبلنجی شافعی (١٢٩٨ھ) کہتے ہیں : : «کانت وفاه ابى محمّد الحسن بن على فی یوم الجمعه لثمان خلون من شهر ربیع الاول سنه ستین وماتین. وخلّف من الولد ابنه محمّداً… امّه امّ ولد یقال لها نرجس… وکنیته ابوالقاسم. ولقّبه الامامیه بالحجه والمهدى والخلف الصالح والقایم والمنتظر وصاحب الزمان واشهرها المهدى» (٥) ۔ ابی محمد حسن بن علی کی وفات آٹھ ربیع الاول ٢٦٠ ہجری کو جمعہ کے روز ہویی ، ان کے ایک بیٹے تھے جن کا نام محمد ہے ۔ ان کی والدہ کا نام ام ولد(٦) اور نرجس تھا ۔ ان کی کنیت ابوالقاسم اور القاب حجت، مہدی، خلف صالح ، قایم، منتظر اور صاحب الزمان ہیں اور ان سب میں سب سے زیادہ مشہور مہدی ہے ۔

٦۔ علامہ صلاح الدین خلیل بن ایبک صفدی لکھتے ہیں : «الحجه المنتظر محمّد بن الحسن العسکرى بن على الهادى بن محمّد الجواد بن على الرضا بن موسى الکاظم بن جعفر الصادق بن محمّد الباقر بن زین العابدین على بن الحسین بن على بن ابى طالب رضى الله عنهم، الحجه المنتظر، ثانى الایمه الاثنى عشر، هذا الذى تزعم الشیعه انّه المنتظر القایم المهدى… ولد نصف شعبان سنه خمس وخمسین وماتین…» (٧) ۔
حجت منتظر محمد بن حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب (علیہم السلام) شیعوں کے نزدیک بارہویں امام ہیں، شیعوں کے عقیدہ کے مطابق وہ قایم مہدی ہیں ،ان کی ولادت ٢٥٥ ہجری نیمہ شعبان میں جمعہ کے روز ہویی اور جس وقت آپ کے والد کی رحلت ہویی اس وقت آپ کی عمر پانچ سال تھی ۔

٧۔ علامہ میر خواند کہتے ہیں : «کانت ولاده الامام المهدى المسمى باسم الرسول(صلى الله علیه وآله) والمکنّى بکنیته بسرّ من راى فی لیله النصف من شعبان سنه 255، وکان عمره وقت وفاه ابیه خمس سنین. آتاه الحکمه کما آتاها یحیى صبیاً وجعله فی الطفولیه اماماً، کما جعل عیسى نبیاً» (٨) ۔
حضرت امام مہدی جو رسول اکرم (ص) کے ہم نام ہیں اور ان کی کنیت بھی رسول اکرم کی کنیت ہے ، کی ولادت ٢٥٥ ہجری ، روز نیمہ شعبان شامراء میں ہویی، ان کے والد کی وفات کے وقت ان کی عمرپانچ سال تھی ۔ خداوندعالم نے اسی عمر میں ان کو حکمت عطا کی ، جس طرح بچپنے میں حضرت عیسی (علیہ السلام) کوعطا کی تھی اوران کو امام قرار دیا ، جس طرح حضرت عیسی (علیہ السلام) کو نبوت عطا کی تھی ۔

٨۔ سبط بن جوزی نے امام مہدی (علیہ السلام) کی سوانح حیات سے متعلق فصل میں لکھا ہے : :«محمّد بن الحسن بن على بن محمّد… وکنیته ابوعبدالله وابوالقاسم وهو الخلف الحجه صاحب الزمان القایم والمنتظر…» (٩) ۔ محمد بن حسن بن علی بن محمد کی کنیت ابوعبداللہ اور ابوالقاسم ہے ، وہ اپنے والد کے جانشین ، حجت، صاحب الزمان، قایم اور منتظر ہیں ۔

٩۔ محمد بن طلحہ شافعی نے امام مہدی (علیہ السلام) کی سوانح حیات میں لکھا ہے : «محمّد بن الحسن الخالص بن على المتوکل بن محمّد… فامّا مولده فبسرّ من راى… وکنیته: ابوالقاسم ولقبه: الحجه والخلف الصالح، وقیل: المنتظر» (١٠) ۔ محمد بن حسن عسکری ،بن علی ہادی بن محمد کی ولادت سامراء میں ہویی ،ان کی کنیت ابوالقاسم ،لقب حجت ،خلف صالح اور ایک قول کی بناء پر منتظر ہے ۔

١٠۔ میرزا محمد بن رستم بدخشی شافعی نے امام حسن عسکری (علیہ السلام) کی سوانح حیات میں لکھا ہے : «و لم یترک ولداً الاّ محمّد المنتظر…» (١١) ۔ ان کا صرف ایک بیٹا محمد منتظر تھا ۔

١١ ۔ ابن حجر ہیتمی شافعی نے ابومحمد حسن عسکری کی سوانح حیات میں لکھا ہے : «ولم یخلف غیر ولده ابى القاسم محمد الحجه وعمره عند وفاه ابیه خمس سنین، لکن آتاه الله فیها الحکمه. ویسمّى القایم المنتظر» (١٢) ۔ حسن عسکری علیہ السلام کے صرف ایک بیٹا ابوالقاسم محمد حجت ہے ، ان کی عمر اپنے والد کی وفات کے وقت پانچ سال تھی ۔ لیکن خداوندعالم نے ان کو پانچ سال کی عمر میں حکمت عطا کی ، ان کو قایم منتظر کہتے ہیں ۔

١٢۔ ابوالعباس احمد بن علی قلقشندی شافعی جو کہ انساب کا ماہر عالم ہے ،امام جعفر صادق (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کے نسب میں حضرت مہدی کو امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے بیٹے اور شیعوں کے بارہویں امام ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ شیعہ ان کے زندہ ہونے کے معتقد ہیں ،اس کی عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ قلقشندی امام مہدی (علیہ السلام) کی ولادت کا معتقد ہے ، لیکن ان کے زندہ ہونے کے اعتقاد کو شیعوں کی طرف نسبت دی ہے (١٣) ۔

١٣۔ نور الدین ابن صباغ مالکی نے اپنی کتاب کی بارہویں فصل میں لکھا ہے : «ابوالقاسم محمّد الحجه الخلف الصالح ابن ابى محمّد الحسن الخالص وهو الامام الثانى عشر. ثم ذکر تاریخ ولادته ودلایل امامته» (١٤) ۔ ابوالقاسم محمد حجت خلف صالح ، امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں اور وہ بارہویں امام ہیں ،پھر ان کی تاریخ ولادت اورامامت کی دلیلیں بیان کی ہیں ۔

١٤ ۔ محمد بن محمود بخاری معروف بہ خواجہ پارسا حنفی نے اس طرح لکھا ہے : «من ایمه اهل البیت الطیبین ابو محمّد الحسن العسکرى… لم یخلف ولداً غیر ابى القاسم محمّد المنتظر المسمّى بالقایم والحجه والمهدى وصاحب الزمان وخاتم الایمه الاثنى عشر عند الامامیه. وکان مولد المنتظر لیله النصف من شعبان سنه 255» (١٥) ۔ ایمہ اہل بیت (علیہم السلام) میں سے ابومحمد حسن عسکری ہیں ۔ ان کے صرف ایک بیٹے تھے جن کا نام ابوالقاسم محمد منتظر ہے جوقایم ، حجت ، مہدی اور صاحب الزمان کے نام سے مشہور ہیں اور شیعوں کے نزدیک بارہویں اور آخری امام ہیں ، ن کی ولادت ٢٥٥ ہجری کو شب نیمہ شعبان میں ہویی ہے ۔

١٥۔ جمال الدین محمد بن یوسف زرندی حنفی کہتے ہیں : «الامام الثانى عشر صاحب الکرامات المشتهر الذى عظم قدره بالعلم واتباع الحق والاثر، القایم بالحق والداعى الى نهج الحق… وکان مولده على ما نقلته الشیعه لیله الجمعه للنصف من شعبان خمس وخمسین وماتین بسرّ من راى فی زمان المعتمد. وامه نرجس بنت قیصر الرومیه…» (١٦) ۔ بارہویں امام مشہور کرامات کے مالک ہیں ،آپ وہ ہیں جو خدا اور سنت نبوی کی کماحقہ پیروی کرتے ہیں ،آپ وہ ہیں جو حق اور راہ حق کی طرف دعوت دینے والے ہیں ۔ شیعوں کے نقل کے مطابق ان کی ولادت شب نیمہ شعبان ٢٥٥ ہجری کو سامراء میں ہویی ،ان کی والدہ کا نام نرجس بنت قیصر روم ہے (١٧) ۔

 حوالہ جات: 
1. مروج الذهب، ج 4، ص 112.
2. وفیات الاعیان، ج 4، ص 176.
3. المختصر فی اخبار البشر، معروف به تاریخ ابوالفداء، ج 1، ص 361.
4. الشذرات الذهبیه، ص 117 و 118 .
5. نورالابصار، ص 341 و 342 .
6. امّ ولد به کنیزى مى گویند که از مولاى خود صاحب فرزند شده باشد.
7. الوافى بالوفیات، ج 2، ص 336.
8. روضة الصفا، ج 3، ص 59.
9. تذکرة الخواص، ص 377.
10. مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول، ج 2، ص 152 و 153، باب 12.
11. مفتاح النجا فی مناقب آل العباس، ص 104.
12. صواعق المحرقه، ص 208.
13. نهایة الارب، ص 118.
14. الفصول المهمه، ص 273.
15. المرقاة فی شرح المشکاة، ج 10، ص 336 و 337.
16. معراج الوصول الى معرفة فضل آل الرسول.
17. اهل بیت از دیدگاه اهل سنت، على اصغر رضوانى، ص 192.

یہ بھی ملاحظہ ہو

imamat

امامت اور خلافت میں کیا فرق هے؟

مختصر جواب:۔ اگرچه اهل سنت کے بعض دانشمند مثلا ابن خلدون کی نظر میں امام …

پاسخ دهید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *