یکشنبه , دسامبر 15 2019
تازہ ترین
مرکزی صفحہ / کربلاء معلیٰ / حرمِ مقدس مولا عباس (ع)۔ / حضرت عباس(ع) کی والدہ کو ام البنین(س) کا نام کیوں دیا گیا؟
cea810d4fbe80fc1a0ba1e6ab839b647

حضرت عباس(ع) کی والدہ کو ام البنین(س) کا نام کیوں دیا گیا؟

حضرت عباس علیہ السلام کی والدہ ماجدہ کا اصل نام فاطمہ(س) ہے اور جب ان کی شادی حضرت علی علیہ السلام سے ہوئی تو انہوں نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے درخواست کی کہ انہیں فاطمہ کے نام سے نہ پکارا جائے کیونکہ جب بھی انہیں ان کے اصلی نام سے پکارا جائے گا تو حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا کے بچوں کو ان کی والدہ یاد آئیں گی اور وہ کسی بھی صورت میں رسول خدا(ص) کی اولاد کو دکھی نہیں کرنا چاہتیں۔

حضرت علی علیہ السلام نے ان کی اس درخواست پہ انہیں ام البنین (یعنی بیٹوں کی ماں) کا لقب دیا اور انہیں ہمیشہ اسی لقب سے ہی پکارا اور تاریخ نے بھی ان کو نام کی بجائے اسی لقب سے ہی یاد کیا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے جناب ام البنین کو چار بیٹے عطا کیے اور وہ حضرت علی علیہ السلام کے عطا کردہ نام کی حقیقی تصویر بن گئیں

یہ بھی ملاحظہ ہو

An Iraqi Shi'ite Muslim boy kisses a poster of the Ayatollah Ali al-Sistani in the town of Karbala, some 110 km south from the Iraqi capital Baghdad, early February 6, 2004. Iraq's most powerful Shi'ite cleric, Ayatollah Ali al-Sistani, survived an assassination bid on Thursday when gunmen opened fire on his entourage in the sacred streets of Najaf, a security aide said. The assassination attempt comes days before a team of United Nations electoral experts is due to arrive in the country to assess the feasibility of holding early elections along the lines that Sistani has demanded. REUTERS/Ali Jasim  PP04020063 OP/CRB - RTRC0XD

آیت‌الله سیستانی کا عراق میں حالیہ مظاہروں کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ

نامور مرجع تقلید نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ حالیہ مظاہروں اور ذمہ داروں …

پاسخ دهید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *