دوشنبه , آگوست 21 2017
مرکزی صفحہ / مشہد و قُمِ مقدس / حرمِ مقدس امام موسیٰ رضا (ع)۔ / مشہد: تماممقامات مقدسہ کے متولی حضرات کی اتفاق رائے سے منشور حقوق زائر منظور ہوگیا
منشور حقوق زائر تصويب شد

مشہد: تماممقامات مقدسہ کے متولی حضرات کی اتفاق رائے سے منشور حقوق زائر منظور ہوگیا

دنیائے اسلام کے مقامات مقدسہ کے متولی حضرات کی اتفاق رائے سے منشور حقوق زائر منظور ہوگیا۔
آستان نیوز کی رپورٹ کےمطابق، دنیائے اسلام کے مقامات مقدسہ کے اجتماع کے سیکریٹری نے اس خبر کو منتشر کرتے ہوئے کہا: یہ دنیائے اسلام کے مقامات مقدسہ کے متولیوں کا دوسرا اجتماع تھا کہ جس میں مقامات مقدسہ میں مشرف ہونے والے زائرین کے حقوق کا منشور سب کی اتفاق رائے سے منظور ہوا ہے ۔
حجۃ الاسلام والمسلمین سید جلال حسینی نے کہا: اس تین روزہ اجتماع میں کہ جس میں تمام مقامات مقدسہ کے متولی اور نائب متولی حاضر تھے ،زائرین کے حقوق اس دوسرے اجتماع کا عنوان تھا کہ جو اہل نظر کی تین مرتبہ میٹنگ کے دوران بحث و مباحثہ کے بعد تحریر کیا گیا اور پھر آخر میں منشور حقوق زائرین تمام مقامات مقدسہ کے متولی حضرات کی اتفاق رائے سے منظور ہوا۔
18 پیراگراف میں منشور
دنیائے اسلام کے مقامات مقدسہ کے اجتماع کے سیکریٹری نے کہا: اس دوسرے اجتماع میں زائرین کے حقوق کے منشور کے کلیات 18 پیراگراف میں منظور ہوئے کہ جو اہل بیت طاہرین علیہم السلام کے روضوں کے متولی حضرات کی اتفاق رائے انجام پائے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین حسینی نے زائرین کی معنوی ترقی و کمال کو مکتب اہل بیت علیہم السلام اور حقیقی اسلام کے معارف سے آگاہی، اور زیارت کے معاملات اور کیفیت  میں آسانی  وغیرہ کو اس منشور کا اہمترین ہدف قراردیا اور کہا:زائرین کے لیے صحت و علاج کے مسائل پر آسانی سے دسترسی، اس کی معنوی ترقی و کمال تک پہنچنے کے لیے راہ کا فراہم ہونا اور زائر کی مشکلات کو برطرف کرنا ،زائر کی امنیت اور سفر میں سکون فراہم کرنا اس کے لیے سفرکا انشورنس وغیرہ اس منشور کا حصہ ہیں کہ جو مقامات مقدسہ کے متولی حضرات کی اتفاق رائے سے منظور ہوا ہے۔
انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ اس اجتماع میں پہلے اجتماع کے اعتبار سے بہت اچھے اقدامات ہوئے ہیں، کہا: اس اجتماع میں ایک داخلی آئین نامہ اور ایک خصوصی کمیٹی تشکیل پائی ہے کہ جو تمام مقامات مقدسہ کے درمیان مسائل طے کیا کرے گی۔
حسینی نے کہا: تمام متولی حضرات کےتعاون اور توسیع پر تاکید سے ہم کو امید ہےکہ آئندہ سال مقامات مقدسہ کے درمیان مشترک اقدامات انجام پائیں گے ۔ یہ اجتماع دنیائے اسلام میں زیارت ڈپلومیسی میں توسیع کی خاطر ہوا ہے اور ہم آج تمام مقامات مقدسہ کے درمیان بہترین تعاون کو ملاحظہ کر رہے ہیں۔
آستان قدس رضوی کے اسلامی روابط و تبلیغات کے سربراہ نے اس تاکید کے ساتھ کہ مقامات مقدسہ کے تعاون کی ضرورت ہے کہا:مسلمانوں میں اختلاف وتفرقہ بازی سے پرہیز کیا جائے اور تمام مسلمان ظالم و ستمگر ارو عالمی سامراج کے مقابلے متحد ہوں اور دینی مرجعیت کے مقام کا احترام کریں وغیرہ مقامات مقدسہ کے اجتماع  کے اہم ترین نتائج ہیں۔
حسینی نے کہا: آئندہ کچھ قوانین بھی تیار کیے جائیں گے کہ جس سے باقی ممالک کے دوسری زیارت گاہوں کے متولی حضرات بھی اس کمیٹی کے ممبر بن جائیں گے۔
انہوں نے کہا: اگلا اجتماع آئندہ سال دس رجب کو شہر ظمین میں کاظمین کے روضہ منورہ کے متولی محترم کی میزبانی میں انجام پائے گا اور اس اجتماع میں آئین نامے کے تحت کہ آج تک ان اجتماعات کی ذمہ داری آستان قدس رضوی کے محترم متولی کے کاندھوں پر تھی اس کے بعد دیگر اجتماعات کی ذمہ داری دوسرے اجتماع کے میزبان؛ حرم مطہر امام حسین علیہ السلام کے محترم متولی جناب سید جعفرموسوی کی طرف منتقل ہوگئی۔
دنیائے اسلام میں ایک عظیم قدم
آیت اللہ سید محمد سعیدی ؛ حضرت معصومہ قم کے روضہ منورہ کے محترم متولی نے آستان نیوز سے گفتگو میں کہا: ا س طرح اجتماعات کامنعقد کرنا بہت عظیم کارنامہ ہے کہ جو آج تک دنیائے اسلام میں انجام نہیں پایا تھا۔ ان اجتماعات کے دو فائدے ہیں ۔ اول ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کہ جو الحمد للہ بہت اچھی طرح انجام پارہا ہے اور دوسرے تمام متولی حضرات کا زائرین کے حقوق کا منشور پر اتفاق رائے کرنا۔
حضرت معصومہ قم کے روضہ منورہ کے محترم متولی نے اس طرح کے اجتماعات سے متعلق دشمن  کی ناراضگی کو یقینی قراردیا اور کہا: دشمنوں کی کوشش رہے گی کہ جس طرح بھی ہوسکے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالیں لیکن اس طرح  کے اجتماعات اور متولی حضرات کا تعاون اسلامی اتحاد میں بہترین رول ادا کرسکتا ہے کہ جس کی عظیم تجلی ہر سال اربعین حسینی  میں عالمی و بین الاقوامی جلوس کی صورت میں دیکھتے ہیں۔
مقامات مقدسہ کا اجتماع  اور اتحاد
اسی طرح حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا کے روضہ منورہ کے محترم متولی جناب شیخ نبیل حلباوی نے آستان نیوز سے گفتگو میں دین اسلام میں اتحاد کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا اور کہا: کلمہ توحید یعنی یہ کہ انسان جانے اور درک کرے کہ اس کائنات پر ایک ہی ارادے کا تسلط ہے اور وہ ارادہ الہی ہے۔ اور اتحاد کا مطلب بھی یہی ہے کہ پوری دنیا کے لوگ جہاں بھی ہوں سب اسی کی جانب گامزن ہیں اورسب مل کر نسل و قوم  وملک کے امتیاز کے بغیر اسی کی طرف توجہ کریں۔یہ ایک عظیم ہدف ہے کہ جو مکتب اہل بیت علیہم السلام میں متحقق ہوسکتا ہے کہ جن کا کلام نور اور افعال کار خیر ہیں۔
داکٹر حلباوی نے آستان قدس رضوی کے محترم متولی کی جانب سے تمام مقامات مقدسہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے  کی مناسبت سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم کو امید ہے کہ اس دوسرے اجتماع کے کہ جوکربلائے معلی میں ہوا بہت اچھے نتائج سامنے آئیں گے اور اس کو مرجعیت اور حسینی ثقافت سے تقویت حاصل ہوگی کہ جو تاریخ کا عظیم ترین انقلاب ہے۔ یہ اسلامی اتحام میں بہت بڑا قدم ہے  اس لیے کہ اسلامی امت کے اتحاد کا مرکز قرآن کریم  اور عترت طاہرین علیہم السلام ہیں کہ جن کے  علمبردار عصر حاضر میں یہ مقامات مقدسہ ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ ہو

47 گردشگر مسيحي به حرم رضوي مشرف شدند

مشہد:47عیسائی سیّاح حرم امام رضا میں شرفیاب ہوئے

47عیسائی سیّاح جو کہ پانچ مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے حرم مطہر رضوی میں …

پاسخ دهید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *