چهار شنبه , آگوست 15 2018
مرکزی صفحہ / کربلاء معلیٰ / امام حسین(ع) اور حضرت عباس(ع) کے روضہ مبارک میں علموں کی تبدیلی
bafec6991588a2f243f15cb1aa5a9d28

امام حسین(ع) اور حضرت عباس(ع) کے روضہ مبارک میں علموں کی تبدیلی

حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک کے گنبدوں پر سارا سال سرخ علم لہراتے ہیں اور یہ سرخ علم اس بات کی علامت ہیں کہ یہ وہ مقتول ہیں کہ جن کے خون کا انتقام لینا باقی ہے خدا کا وعدہ ہے کہ امام زمانہ(عج) اپنے ظہور کے بعد امام حسین(ع) اور شہداء کربلا کے قاتلوں سے ان کے ہر ظلم و ستم کا بدلہ لیں گے تمام مومنین ہر وقت امام زمانہ کے ظہور کی دعا کرتے ہیں تاکہ ان کے ساتھ مل کر امام حسین علیہ السلام اور شہداء کربلا کے قاتلوں سے بدلہ لیا جائے اور پوری دنیا کو انسانیت کے دشمنوں سے پاک کر دیا جائے تاکہ پوری انسانیت سکون اور سعادت کی زندگی گزار سکے۔
حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک کے گنبدوں پر سارا سال لہرانے والے سرخ علموں کو ہر سال محرم کے شروع ہوتے ہی اتار کر ان کی جگہ سیاہ علم نصب کر دئیے جاتے ہیں کہ جو حزن و ملال اور سوگ کی علامت ہیں۔
بروز جمعرات(29ذي الحجة 1438هـ) بمطابق(21ستمبر 2017ء) کو عراق اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں محرم کا چاند نظر آیا اور چاند نظر آنے کے بعد ہر سال کی طرح پہلی محرم کی رات نماز مغربین کی ادائیگی کے بعد حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک کے گنبدوں پر موجود علموں کے تبدیل کرنے کی تقریب منعقد ہوئی کہ جس میں محرم 1439ھ کے شروع ہوتے ہی گنبدوں پر نصب سرخ علموں کو اتار کر سیاہ علم نصب کیے گئے اس تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور بہت سے عراقی اور غیر ملکی ٹی وی چینلوں نے اس تقریب کو براہِ راست نشر کیا۔
سب سے پہلے حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ مبارک میں علم کے تبدیل کرنے کی تقریب منعقد ہوئی کہ جس کی ابتدا قاری أسامہ كربلائی نے تلاوت قرآن مجید سے کی اس کے بعد روضہ مبارک امام حسین علیہ السلام کے متولی شرعی علامہ شیخ عبد المہدی کربلائی نے خطاب کیا اور شعا‏ر حسینی کی عظمت اور عزاداری کی اہمیت کے بارے میں گفتگو کی۔
ان کے خطاب کے بعد ایک حزین دھن کے ساتھ لبیک یا حسین کی گونجتی ہوئی آوازوں میں روضہ مبارک کے گنبد پر لہراتا ہوا سرخ علم اتار کر سیاہ علم نصب کر دیا گيا اور اس کے ساتھ ہی مرحوم شيخ هادي كربلائي کا محرم کی ابتداء کے حوالے سے لکھا ہوا عربی نوحہ (يا شهر عاشور) مرحوم حمزة الزغير کی آواز میں پورے حرم میں گوجنے لگا۔
حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ مبارک پر علم کی تبدیلی کی تقریب کے ختم ہوتے ہی تمام حاضرین اور عزاداروں نے حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک کا رخ کیا کہ جہاں امام حسین(ع) کے علمدار کے حرم کے گنبد سے علم کی تبدیلی کی تقریب منعقد ہوئی۔
امام حسین علیہ السلام کے حرم میں علم کی تبدیلی کی تقریب کے ختم ہوتے ہی حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک میں علم کی تبدیلی کی تقریب کا آغاز کر دیا گیا کہ جس کی ابتداء تلاوتِ قرآن مجید سے ہوئی پھر اس کے بعد روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے متولی شرعی علامہ سید احمد صافی کی نیابت میں شیخ علی موحان نے خطاب کیا اور حضرت امام حسین(ع) کے مشن کے حوالے سے گفتگو کی اور اعلی دینی قیادت کی طرف سے جہاد کفائی کے فتوی اور اس پر مکمل عمل کو عزاداری کی برکت قرار دیا۔ خطاب کے آخر میں پوری دنیا اور خاص طور پر عراق میں موجود مومنین کی حفظ وامان اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔
اس کے بعد عراق کے صوبے بابل کے مومنین کی طرف سے تیار کیا گیا علم روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے روضہ مبارک کے سیکرٹری جنرل سید محمد اشیقر نے وصول کیا۔ یہ بتاتا چلوں کہ گزشتہ کئی سالوں سے اس موقع پر ہر سال عراق کے صوبوں میں سے کوئی ایک صوبہ مولا عباس(ع) کے حرم کے لیے علم روضہ مبارک کے سیکرٹری جنرل کو پیش کرتا ہے اور اس سال یہ اعزاز عراق کے صوبے بابل کے مومنین کو حاصل ہوا۔
پھر پورے حرم میں حزین دھن سنائی دینے لگی اور اس کے بعد مولا عباس(ع) کے حرم کے گنبد پر لہراتا ہوا سرخ علم اتار کر سیاہ علم نصب کر دیا گیا۔
یہ بات واضح رہے کہ علم کی تبدیلی کی تقریب کا باقاعدہ آغاز صدام ملعون کی حکومت کے خاتمے کے بعد سن 2003ء میں شروع کیا گیا کہ جو اس وقت کربلا کے روضوں میں منعقد ہونے والی اہم ترین تقریب کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

یہ بھی ملاحظہ ہو

5b44a6c422651

حرم مقدس حسینی کا تیسرا زیرزمین ایوان تکمیل کے قریب

حرم مطہر حضرت امام حسین علیہ السلام میں بالائے سراقدس تربت حضرت امام حسین علیہ …

پاسخ دهید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *