دوشنبه , دسامبر 16 2019
تازہ ترین
مرکزی صفحہ / کربلاء معلیٰ / حرمِ مقدس امامِ حُسین (ع)۔ / کمسن بچے اور زائرین امام حسین علیہ السلام کی خدمت
59f1dc06a6fe21

کمسن بچے اور زائرین امام حسین علیہ السلام کی خدمت

صفائی  ستھرائی سے   حفظان صحت ۔۔۔۔۔  پاپیادہ زائرین کی خدمت

نجف سے کربلاء ہو یا بغداد سے کربلاء یا طویل تر سفر از بصرہ تا کربلاء کو 500 کیلومیٹر سے زیادہ فاصلہ ہے پایادہ بطرف کربلاء آنے والے زائرین کی خدمت کے لئے اہل عراق  کی جود و  سخا ثانی نہیں رکھتی کہ آخر پیروان اہلبیت علیہم السلام کہ جن کی عطاء بلا  سوال پہنچتی تھی اور رہے گی

پاپیادہ آنے والوں کے لئے خصوصی آرام دہ مکان کے ساتھ یہاں تک کہ زائر کی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاتا ۔

راہ چلتے زائرین یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی مشغول پائیں گے  اس کے ساتھ ہی عورتیں بھی اس میدان میں اپنے مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ ہیں، وہیں عورتوں نے بھی خصوصی استراحت خانہ بنا رکھا ہے جہاں پاپیادہ خواتین کے آرام اور ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے۔

صفائی  اور نظافت

ایک موکب کی طرف نگاہ پڑی تو وہاں 8 سے 14 سال کی عمر کے بچے موجود تھے جب سوال کیا کہ کیوں جمع ہو تو بتایا کہ ہم تمام آپس میں رشتہ دار ہیں اور ہماری ذمہ داری استراحت گاہ اور گزرگاہ کی صفائی ہے کیونکہ  خروج حضرت امام حسین علیہ السلام بغرض اصلاح اور تنظیم تھا  تاکہ دوسری اقوام ملت  تک امت مسلمہ کو باشعور ہونے کا پیغام دیں ۔چونکہ سفر بہت طویل ہے اور زائرین خستگی کی وجہ سے   راہ چلتے ہی آب و غذا تناول کرتے ہیں اور اس کے ساتھ لنگر کی تقسیم کے بعد جمع ہونے والی آلودگی    کو  صاف کرنا ہماری ذمہ داری ہے تاکہ راہ چلتے زائرین کے لئے شاہراہ صاف رہے۔

 پڑھائی اور خدمت

چونکہ یہ بچے خدمت زائرین کے لئے استراحت گاہ میں موجود ہیں مگر  اس کے باوجود تحصیلی ایام کی بناء پر غیر حاضری نہیں اور نہ ہی تعلیمی رخصت لی، احمد (14سال) نے بتایا کہ ہم نے آپس میں طے کیا ہے کہ وہ بچے جو علی الصبح اسکول جاتے ہیں وقت عصر استراحت گاہ میں ڈیوٹی کریں گے اور دیگر بوقت صبح  حاضر ہونگے جبکہ ہفتہ میں دوروز جمعہ اور ہفتہ کی سرکاری چھٹی  میں تمام موجود رہتے ہیں قابل ذکر بات کہ ان بچوں کے اہل خانہ نے اس شرط پر اجازت دی ہے کہ تعلیمی  لحاظ سے کوئی کمی نہ آنے پائے اور نتائج میں اعلیٰ نمبروں کی شرط  پر یہاں زائرین کی خدمت کی اجازت ہے

یہ بھی ملاحظہ ہو

An Iraqi Shi'ite Muslim boy kisses a poster of the Ayatollah Ali al-Sistani in the town of Karbala, some 110 km south from the Iraqi capital Baghdad, early February 6, 2004. Iraq's most powerful Shi'ite cleric, Ayatollah Ali al-Sistani, survived an assassination bid on Thursday when gunmen opened fire on his entourage in the sacred streets of Najaf, a security aide said. The assassination attempt comes days before a team of United Nations electoral experts is due to arrive in the country to assess the feasibility of holding early elections along the lines that Sistani has demanded. REUTERS/Ali Jasim  PP04020063 OP/CRB - RTRC0XD

آیت‌الله سیستانی کا عراق میں حالیہ مظاہروں کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ

نامور مرجع تقلید نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ حالیہ مظاہروں اور ذمہ داروں …

پاسخ دهید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *