سه شنبه , دسامبر 11 2018
تازہ ترین
مرکزی صفحہ / کربلاء معلیٰ / حرمِ مقدس مولا عباس (ع)۔ / عراق میں ہونے والے مظاہروں کے حوالے سے حرم مقدسہ کا موقف
مراسم+گلباران+حرم+مطهر+رضوي+در+روز+ولادت+حضرت+معصومه+(س)+(2)

عراق میں ہونے والے مظاہروں کے حوالے سے حرم مقدسہ کا موقف

میرے بھائیو اور بہنو! ہم ان دنوں بصرہ اور دیگر علاقوں میں عوامی مظاھرات دیکھ رہے ہیں کہ جن میں درجہ حرارت کی زیادتی کے باوجود بجلی کی لوڈ شیڈنگ، پینے اور دوسری ضروریات کے لیے پانی کی عدم فراہمی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، پورے صوبے میں بیماریوں کے بڑھنے کے باوجود صحت سے متعلقہ اداروں میں عدم قابلیت اور خدمات کی شدید ترین کمی سے متاثر عوام اپنے بہت سے مطالبات پیش کر رہی ہے۔
اس بات کا ذکراعلیٰ دینی قیادت کے خصوصی نمائندے اور روضہ مبارک حضرت امام حسین علیہ السلام کے متولی شرعی علامہ شیخ عبد المھدی کربلائی (دامت برکاتہ) نے نماز جمعہ کے دوسرے خطبہ کے دوران (28شوال 1439هـ) بمطابق (13 جولائی 2018ء) کو روضہ مبارک امام حسین علیہ السلام میں کیا۔
علامہ کربلائی نے اپنے خطبہ میں مومنین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
ہم حق پر مبنی مطالبات پیش کرنے والے اپنے عزیز ترین ہم وطنوں کے ساتھ کھڑے ہیں ہمیں اپنے ہم وطنوں کی مشکلات اور ان کی اقتصادی و معاشی حالت کا مکمل احساس ہے، مالی وسائل متوفر ہونے کے باوجود سابقہ اور لاحقہ حکومتوں کی طرف سے حالات کو بہتر بنانے اور عوامی خدمات فراہم کرنے میں واضح کوتاہی کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ اگر حکومتی و انتظامی مناصب پہ بیٹھے ہوئے افراد اپنی ذمہ داری کو صحیح طریقے سے ادا کرتے، تجربہ کار ماہرین اور اہل خبرہ کی خدمات حاصل کرتے، حکومتی اداروں کو پیشہ وارانہ طریقے سے چلاتے، آپس میں بانٹنے کی پالیسی سے پرہیز کرتے، ہر قسم کے گروہ اور ہر پارٹی کی کرپشن کو روکتے تو آج اس طرح کے برے حالات ہمیں دیکھنے میں نہ ملتے۔
بصرہ کا صوبہ پورے ملک میں سے سب سے زیادہ اپنے وطن کو مالی وسائل مہیا کرتا ہے، داعشی دہشت گردوں کے خلاف دفاعی معرکے میں اہل بصرہ نے سب سے زیادہ شھداء پیش کیے اور معرکے کے دوران زخمی ہونے والوں کی زیادہ تر تعداد بھی اہل بصرہ سے ہے اور اب بھی بصرہ کی سڑکیں اور گلیاں ان ہزاروں شھداء کی تصاویر سے بھری ہوئی ہیں جنہوں نے عراق اور اس کے مقدسات کو داعشی دہشت گردوں سے بچانے کے لیے جام شھادت نوش کیا۔ یہ انصاف نہیں ہے کہ اس قسم کا صوبہ پورے ملک کے تمام علاقوں سے زیادہ محروم ہو اور یہاں کے رہنے والے معاشی مشکلات، خدمات کی کمی، امراض کے پھیلاؤ اور بے روزگاری کے ہاتھوں شدید ترین مشکلات میں پھنسے ہوئے ہیں۔
مرکزی اور مقامی حکومت سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عوامی مطالبات کو سنجیدگی سے لے اور انھیں پورا کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے، اور باقی تمام مشکلات کو حل کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کے کام شروع کرے، اس کے لیے کرپٹ لوگوں کے خلاف پختہ عزم اور سخت پالیسی اپنانے اور ایسے تجربہ کار ماہرین اور اہل خبرہ سے مدد لینے کی ضرورت ہے کہ جو بغیر کسی رکھ رکھاؤ کے گزشتہ تمام مسائل کے ذمہ داروں کی تعیین اور بنیادی حل تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بیشک اہل بصرہ اپنے صوبے کی محتلف سیاسی پارٹیوں کو آزما چکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے حالات میں بہتری کی بجائے صرف مایوسی اور مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
ہماری اپنے محترم اہل وطن سے گزارش ہے کہ وہ مظاہروں اور اپنے مطالبات پیش کرنے کے دوران ایسے غیر سلیم طریقوں کو نہ اپنائيں کہ جن سے حالات اور امن و امان کی صورت حال بگڑ جائے۔ اسی طرح حکومتی اداروں، عوامی املاک اور حکومت کے ساتھ معاہدہ کر کے ملک میں کام کرنی والی کمپنیوں کو مظاہروں میں شامل بعض مفاد پرست اور شرپسند عناصر کے ہاتھوں نقصان پہنچنے سے بچائیں کیونکہ جو بھی نقصان ہو گا اسے عوام کے پیسوں سے پورا کیا جائے گا۔

یہ بھی ملاحظہ ہو

99a865400755cfaee2f15b313c874bd1

اقوام متحدہ کے ہیڈکواٹر میں کربلا کے مقدس روضوں کے بغیر یہ کامیاب اور تاریخی کانفرنس ممکن نہ تھی

یو یارک میں خوئی فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر شیخ فاضل السہلانی نے الکفیل انٹر نیشنل نیٹ …

پاسخ دهید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *