دوشنبه , نوامبر 11 2019
تازہ ترین
مرکزی صفحہ / کربلاء معلیٰ / حرمِ مقدس امامِ حُسین (ع)۔ / ی قار میں (30500) سے زیادہ مواکب نے زائرینِ اربعین کو خدمات مہیا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا
7daf9114cbc508a03b659a26c17cded6

ی قار میں (30500) سے زیادہ مواکب نے زائرینِ اربعین کو خدمات مہیا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا

امام حسین(ع) اور حضرت عباس(ع) کے روضہ مبارک کے شعائر اور حسینی انجمنوں کے سیکشن کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ ذی قار کے مختلف علاقوں میں (30570)رجسٹرڈ مواکب نے زائرینِ اربعینِ امام حسین(ع) کو خدمات مہیا کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا اور ذی قار میں موجود کربلا کے تمام راستوں پر مواکب اور کیمپس لگا کر پیدل کربلا جانے والے زائرین کے لیے کھانے پینے رہائش میڈیکل اور دیگر خدمات کے وسیع انتظامات کیے۔

واضح رہے کہ یہ اُن مواکب اور حسینی انجمنوں کا اعداد وشمار ہے کہ جو مذکورہ سیکشن میں رجسٹرڈ ہیں جبکہ چہلم امام حسین(ع) کے احیاء میں شرکت کرنے والے جو مواکب اور انجمنیں مذکورہ سیکشن میں رجسٹرڈ نہیں ہیں ان کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، اسی طرح اس موقع پر انفرادی طور پر لوگوں کی طرف سے زائرین کی خدمت کا جو انتظام کیا جاتا ہے اس کا ریکارڈ اکٹھا کرنا بہت ہی مشکل ہے۔

زائرین اربعین کے قافلہ کے ذی قار پہنچنے سے پہلے ہی اہل ذی قار نے زائرین کے استقبال اور ان کی خدمت کے لیے گھر بار چھوڑ کر سڑکوں پر ڈیرے لگا لیے۔ ذی قار کے تقریبا تمام مواکب اور استقبالی کیمپس کے باہر ان شھداء کی تصاویر آویزاں تھیں جنہوں نے عراق اور اس کے مقدسات کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور انسانیت کو داعش اور اس کے ہمنوا دہشت گردوں سے بچانے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ان شھداء کی تصاویرکا ہر جگہ زائرین کا استقبال کرنا ہمیں یہ باور کرواتا ہے کہ اگر ان شھداء کا پاکیزہ خون نہ ہوتا تو آج یہ دسیوں لاکھ زائرین اس اطمینان کے ساتھ کربلا نہ جا سکتے اور نہ ہی عراق سمیت بہت سے ممالک میں انسان یوں سکون سے رہ رہے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ ان شھداء کے درجات بلند فرمائے اور انہیں شھدائے کربلا میں محشور فرمائے۔

یہ بھی ملاحظہ ہو

An Iraqi Shi'ite Muslim boy kisses a poster of the Ayatollah Ali al-Sistani in the town of Karbala, some 110 km south from the Iraqi capital Baghdad, early February 6, 2004. Iraq's most powerful Shi'ite cleric, Ayatollah Ali al-Sistani, survived an assassination bid on Thursday when gunmen opened fire on his entourage in the sacred streets of Najaf, a security aide said. The assassination attempt comes days before a team of United Nations electoral experts is due to arrive in the country to assess the feasibility of holding early elections along the lines that Sistani has demanded. REUTERS/Ali Jasim  PP04020063 OP/CRB - RTRC0XD

آیت‌الله سیستانی کا عراق میں حالیہ مظاہروں کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ

نامور مرجع تقلید نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ حالیہ مظاہروں اور ذمہ داروں …

پاسخ دهید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *