یکشنبه , دسامبر 15 2019
تازہ ترین
مرکزی صفحہ / کربلاء معلیٰ / حرمِ مقدس مولا عباس (ع)۔ / مرمت اور جدیدیت کےلئےکئے جانے والے کاموں کو بے حد سراہا
6bb9527974aa652c9a7585de0736db52

مرمت اور جدیدیت کےلئےکئے جانے والے کاموں کو بے حد سراہا

روضہ مبارک حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور روضہ مبارک حضرت سیدہ رقیہ سلام اللہ علیہا کے ڈائریکٹرز نے روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کی جانب سے دونوں روضوں کی بحالی، مرمت اور جدیدیت کےلئےکئے جانے والے کاموں کو بے حد سراہا اور روضہ مبارک کی جانب سے تکنیکی ٹیم بھیجنے پر شکریہ ادا کیا۔

ٹیکنیکل ٹیم نے چھ روزہ کام کے اختتام پردو میٹنگز کیں۔ پہلی میٹنگ روضہ مبارک حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے ڈائریکٹر انجینئر محسن حرب سے کی گئی اور انہیں گزشتہ اور حالیہ کیے جانے والے کاموں کی تفصیلات سےآگاہ کیا گیا۔ روضہ مبارک حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے ڈائریکٹر نے کہا کی یہ پانچویں دفعہ ہے کہ روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام نے روضہ مبارک حضرت زینب علیہ السلام کی بحالی ، مرمت اور جدیدیت کے لیے کام کیا اور اپنی ٹیکنیکل ٹیمیں یہاں روانہ کیں۔ یہ تمام کوششیں روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کی روضہ مبارک حضرت زینب علیہ السلام سے سنجیدگی اور عقیدت کی مظہر ہیں۔ ہم ان تمام لوگوں کا جنہوں نے اس کام کی منصوبہ بندی کی اور جنہوں نے یہ کام کیا ان سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور روضہ مبارک کے سینئر آفیشل سے لے کر تمام خدا م کے تہ دل سے مشکور ہیں۔

دوسرے میٹنگ روضہ مبارک حضرت سیدہ رقیہ سلام اللہ علیہا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مسٹر مظہر محمود العشقر سے کی گئی۔ انہوں نے کہا ہم ان تمام کوششوں اور کاموں پر آپ سب کے بے حد شکر گزار ہیں ۔ یہاں کیے جانے والے تمام کام اور مدد ابوالفضل عباس کی جانب سے ان کی بھتیجی رقیہ بنت حسین کے لئے تحفہ ھیں ۔ یہ تمام کام عراق خصوصا کربلا میں موجود روضوں اور شام میں موجود روضوں کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتے ھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنیکل ٹیم کے اراکین جنہوں نے یہاں اپنی خدمات پیش کیں حضرت امام حسین علیہ السلام کے افکار اور نظریات کے ماننے والےاور عراق کے بیٹے ہیں جنھیں کروڑوں زائرین کی خدمت کرنے کا شرف حاصل ھے جو ان کی عقیدت ، سخاوت اور دریا دلی کا واضح ثبوت ہے۔

یہ بھی ملاحظہ ہو

An Iraqi Shi'ite Muslim boy kisses a poster of the Ayatollah Ali al-Sistani in the town of Karbala, some 110 km south from the Iraqi capital Baghdad, early February 6, 2004. Iraq's most powerful Shi'ite cleric, Ayatollah Ali al-Sistani, survived an assassination bid on Thursday when gunmen opened fire on his entourage in the sacred streets of Najaf, a security aide said. The assassination attempt comes days before a team of United Nations electoral experts is due to arrive in the country to assess the feasibility of holding early elections along the lines that Sistani has demanded. REUTERS/Ali Jasim  PP04020063 OP/CRB - RTRC0XD

آیت‌الله سیستانی کا عراق میں حالیہ مظاہروں کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ

نامور مرجع تقلید نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ حالیہ مظاہروں اور ذمہ داروں …

پاسخ دهید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *