شنبه , می 25 2019
تازہ ترین
مرکزی صفحہ / مشہد و قُمِ مقدس / حرمِ مقدس امام موسیٰ رضا (ع)۔ / رضوی اسپتال میں EBUS مشین کا افتتاح
راه_اندازي تنها دستگاه اندوبرونشيال EBUS شرق کشور در بيمارستان فوق تخصصي رضوي

رضوی اسپتال میں EBUS مشین کا افتتاح

رضوی اسپتال میں ایران کے مشرقی علاقے کی پہلی، سب اسپیشیلائزڈ (sub-specialized)  “انڈو برونکائٹس الٹرا ساؤنڈ برانکو اسکوپی مشین” Endobronchial Ultrasound Bronchoscopy (EBUS) کا افتتاح ہوگیا
مشہد مقدس کے رضوی اسپتال میں پھیپھڑوں کے علاج کے ماہر ڈاکٹر داؤد عطّاران نے آستان نیوز کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے اس بارے میں کہا  کہ یہ مشین اس سے پہلے بھی اس اسپتال میں موجود تھی لیکن یہ نئی مشین بالکل جدید ترین قسم کی ہے یعنی اہم قسم کی سونوگرافی مشین کے ساتھ یہ برونکواسکوپی مشین منسلک کردی گئی ہے اور اب اس کے ذریعے وہ ٹیومر اور غدّے جو پھیپھڑے کی ساخت سے الگ وجود میں آگئے ہیں انھیں آسانی سے شناخت کرلیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے معمولی برونکواسکوپی مشین کی مدد سےان کی شناخت اور تشخیص ناممکن تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ خوش قسمتی سے اب پہلی بار مشہد شہر میں یہ امکان پیدا ہوگیاہے جو بے شمار بیمار سیاحوں کے مقصد کو پورا کردے گا۔ ملک کے مشرقی خطّے میں اس جدید ترین مشین سے پہلی بار استفادہ کیا جارہا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ پورے ملک سے پھیپھڑوں کے امراض کے بہت سارے اسپیشلسٹ  ڈاکٹر اور ان کے معاون ڈاکٹروں نے رضوی اسپتال کے انڈواسکوپی کے شعبے میں  دو روزہ ورکشاپ میں شرکت کی اور اس مشین کی کارکردگی کو تمام مدعو اساتذہ کے سامنے آپریشنل کرکے دکھایا گیا تاکہ وہ اس مشین کو استعمال کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکیں۔

ڈاکٹر عطاران نے یہ بھی کہا کہ برونکو اسکوپی ایک ایسی تشخیصی روش ہے جس کے ذریعے پھیپھڑوں کے ٹیومر اور سرطان، سانس کی نالی کی بیماری جیسے تپ دق، سانس کی نالیوں کی عفونت، غرض یہ کہ پھیپھڑوں سے متعلق تمام بیماریوں کا پتہ چلایا جاتا ہے۔

انھوں نے مزید  کہا  کہ رضوی اسپتال میں اب تک برونکواسکوپی مشین کے ذریعے، پھیپھڑوں کے باہر کے حصے کے غدّوں اور مخاط (mucous)  کے پیچھے نکل آنے والے غدّوں کی تشخیص نہیں ہوپاتی تھی، لیکن اس نئی مشین کے فعال ہوجانے کے بعد سے یہ مسئلہ حل ہوگیا ہے کیونکہ اس مشین کے آخری حصے میں سونوگرافی کی ایک بے حد چھوٹی سی مشین بھی لگی ہوئی ہے، جو ان ٹیومر اور غدّوں کی باآسانی شناخت اور ان کے نمونے نکال لیتی ہے جو پھیپھڑے کے باہری حصے میں ابھر آتے ہیں ۔

ڈاکٹر عطاران نے یہ بھی کہا کہ اس روش کے اپنانے کے بعد ہم ایسے مریضوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کرسکتے ہیں جن کے ٹیومر کا پتہ لگانے اور ان کے نمونے حاصل کرنے کے لئے ہم پہلے مجبور تھے کہ ان کے سینوں اور پسلیوں میں شگاف کریں یا دوسرے لفظوں میں آپریشن کرکے پتہ لگائیں۔ جب کہ اب یہ تشخیص بالکل سادہ طریقے سے برونکواسکوپی کی اس جدید مشین کے ذریعے انجام پاجاتی ہے ۔ ڈاکٹر عطاران کا کہنا تھا کہ ظاہر ہے کہ اب اس قسم کی تشخیص کے لئے کسی سخت اور پیچیدہ آپریشن کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔

یہ بھی ملاحظہ ہو

نخست وزير پاکستان به حرم مطهر رضوي مشرف شد

وزیراعظم پاکستان عمران خان، حضرت امام رضا علیہ السلام کی زیارت سے شرفیاب

پاکستان کے وزیرا‏عظم عمران خان اور ان کے ہمراہ اعلی سطحی وفد نے اپنے دو …

پاسخ دهید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *