سه شنبه , ژوئن 18 2019
تازہ ترین
مرکزی صفحہ / مشہد و قُمِ مقدس / حرمِ مقدس امام موسیٰ رضا (ع)۔ / امام علی علیہ السلام، اسلام اور پیغمبر اکرم (ص) کی مظلومیت کی مکمل تصویرہيں
hwva77bryyacq70w5ohdqt1bv569lywq

امام علی علیہ السلام، اسلام اور پیغمبر اکرم (ص) کی مظلومیت کی مکمل تصویرہيں

انیسویں رمضان المبارک کی شب قدر کے مخصوص اعمال دسیوں ہزار مومنین اورعزاداروں کی موجودگي میں امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہرمیں انجام دئے گئے ۔ اس موقع پر مشہد مقدس کے امام جمعہ آیت اللہ سید احمدعلم الہدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام علی (ع) کی مظلومیت کا بیان انسان کے بس سے باہر ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ان کے فضائل بے شمار ہیں اور ان کو بھی سادگی کے ساتھ بیان کردینا کسی کے بس میں نہیں ہے

آستان نیوز کے مطابق مشہدمقدس کے امام جمعہ نے کہا کہ امیرالمومنین (ع) کی مظلومیت پیامبر اکرم (ص) کی مظلومیت کا ہی تسلسل ہے  آیت اللہ سید علم الھدی نے کہا کہ رسول اکرم (ص) نے اپنی ایک حدیث میں اس اہم بات کی جانب اشارہ کیا تھا کہ کسی بھی پیغمبر کو اتنی اذیت نہیں دی گئی جتنی مجھے دی گئی ہے۔

مشہد مقدس کے امام جمعہ نے کہا کہ پیغمبراسلام نے اسلامی نظام  کے وژن کو آگے بڑھانے کے لئے اس کا انتظام چلانے والوں کے نام بھی بتا دئے تھے اور اس اسلامی نظام کے وژن کی ضامن امیرالمومنین علی (ع) اور ائمہ اطہارعلیھم السلام کی رہبری اور امامت   تھی۔

انھوں نے کہا کہ حضرت علی (ع) پر جتنے بھی مظالم ڈھائے گئے وہ دراصل خود اسلام اور پیغمبراسلام (ص) پر حملہ تھا۔  انھوں نے یہ بھی کہا کہ امام علی (ع) کی ایک روایت ہے << رحلت پیغمبر (ص) کے بعد جو کچھ بھی میرے ساتھ ہوا ، اس نے مجھے ایک ایسے دوراہے پر کھڑا کردیا تھا جس میں ایک طرف “صبر” اور دوسری جانب “اقدام جنگ” تھا ، کہ میں نے صبر کیا  اور یہ صبر میری آنکھوں میں کانٹے کی مانند تھا >>
خراسان رضوی میں ولی فقیہ کے نمائندے نے کہا : جب عوام نے کئی برسوں کے بعد بے انصافی کو محسوس کیا تو حضرت علی (ع) کے گھر پر ہجوم کی صورت میں آگئے اور ان کی بیعت کرلی، لیکن اس لمحے بھی انھوں نے حضرت علی (‏ع) کو صرف ایک عادل حکمران کے طور پر چاہا تھا۔  عوام الناس حضرت علی کی ولایت اور امامت سے ہنوز ناواقف تھے۔

آیت اللہ علم الہدی نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ حضرت علی (ع) کی حکومت کی پوری مدت اس کوشش میں گزری کہ اسلامی نظام پوری طرح قائم ہوجائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ حضرت علی (ع) کے کردار اور عادلانہ اقدام بعض لوگوں کے لئے نا گوار تھے اور یہی بات باعث بنی کہ وہ دوبارہ انھیں اپنے ظلم کا نشانہ بنایئں۔

آیت اللہ علم الہدی نے کہا کہ اسلامی تعلیمات اور بنیادوں کو عملی شکل دینے کی راہ میں حضرت علی (ع) کا تنہا رہ جانا بھی ان کی ایک اور مظلومیت کی نشانی ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے مزید کہا کہ حضرت علی (ع) کی مظلومیت ان کی شہادت کے ساتھ ختم نہیں ہوئی بلکہ شہادت کے بعد بھی ایک مدت تک منبروں سے اور نماز جمعہ کے نام نہاد خطبوں میں ان کی شان میں گستاخی کی جاتی رہی

یہ بھی ملاحظہ ہو

مراسم جشن شب «عيد غدير»؛ ويژه زائران عرب_زبان5

مشہد غیر ملکی زائرین کے لئے حلقہ معرفت کے زیرعنوان نشستوں کا اہتمام

غیرملکی زائرین کی  معلومات میں اضافے،  ان کی  سیاسی  بصیرت  کو اجاگر   کرنے اور …

پاسخ دهید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *