دوشنبه , دسامبر 9 2019
تازہ ترین
مرکزی صفحہ / کربلاء معلیٰ / حرمِ مقدس امامِ حُسین (ع)۔ / روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کا مہمان خانہ عَلَم کی پرچم کشائی کے بعد پیدل آنے والے زائرین کی خدمت کے لیے کھول دیا گیا ہے
bafec6991588a2f243f15cb1aa5a9d28

روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کا مہمان خانہ عَلَم کی پرچم کشائی کے بعد پیدل آنے والے زائرین کی خدمت کے لیے کھول دیا گیا ہے

نجف کربلا روڈ پر واقع روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے مہمان خانہ کو پیدل آنے والے زائرین کی خدمت کے لیے کھول دیا گیا ہے اور ہر سال کی طرح اس سال بھی(29 محرم الحرام 1441هـ بمطابق 29 ستمبر 2019ء کو نجف کربلا روڈ پر واقع روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کے مضیف (مہمان خانہ) کو اربعین امام حسین(ع) کے موقع پر پیدل آنے والے زائرین کی خدمت کے لیے کھولنے کے پہلے دن علمدارِ وفا حضرت عباس علیہ السلام کے علم کی پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی کہ جس میں روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے سیکیرٹری جنرل انجیئنر محمد اشیقر، اداری سربراہان، خدام اور مومنین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس افتتاحی تقریب کا آغازمسلم عقيل الشبكي نے تلاوت قرآن محید سے کیا اس کے بعد روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کے دینی امور کے سیکشن کی طرف سے علامہ سید عدنان موسوی نے خطاب کیا اور زائرین کی خدمت کی فضیلت کے حوالے سے گفتگو کی اور
اسیران کربلا کی شام سے کربلا واپسی کا ذکر کیا اور اس کے بعدایک حزین دھن کے ساتھ علم کی پرچم کشائی کی گئی۔
مضیف حضرت عباس علیہ السلام میں بلند کیا جانے والا یہ علم زمین سے 40 میٹر بلند ہے جبکہ اس علم کی لمبائی 17 میٹر ہے اور چوڑائی 13 میٹر ہے اور اس کے اوپر (السلام عليك يا حامل لواء الحسين عليه السلام)سرخ رنگ میں لکھا ہوا ہے۔

اتنی بلندی پر اور اتنے بڑے علم کو اس مضیف (مہمان خانہ) میں لہرانے کا مقصد نجف سے کربلا کے راستے میں موجود علمدارِ وفا کے روضہ مبارک کی طرف سے بنائے جانے والے واحد مہمان خانہ پر علم کو ہی نشانی و علامت قرار دینا ہے۔
ہزاروں میٹر پر مشتمل اس مہمان خانہ کی تعمیر امام حسین علیہ السلام کے زائرین کی خدمت کے لئے کئے جانے والے ان اقدامات کی ایک کڑی ہے کہ جو روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کی طرف سے انجام دئیے جا رہے ہیں اس مہمان خانہ میں زائرین کی خدمت کے لئے رہائش، کھانے، میڈیکل اور بہت سے دوسرے انتظامات کئے گئے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ ہو

An Iraqi Shi'ite Muslim boy kisses a poster of the Ayatollah Ali al-Sistani in the town of Karbala, some 110 km south from the Iraqi capital Baghdad, early February 6, 2004. Iraq's most powerful Shi'ite cleric, Ayatollah Ali al-Sistani, survived an assassination bid on Thursday when gunmen opened fire on his entourage in the sacred streets of Najaf, a security aide said. The assassination attempt comes days before a team of United Nations electoral experts is due to arrive in the country to assess the feasibility of holding early elections along the lines that Sistani has demanded. REUTERS/Ali Jasim  PP04020063 OP/CRB - RTRC0XD

آیت‌الله سیستانی کا عراق میں حالیہ مظاہروں کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ

نامور مرجع تقلید نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ حالیہ مظاہروں اور ذمہ داروں …

پاسخ دهید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *