دوشنبه , دسامبر 9 2019
تازہ ترین
مرکزی صفحہ / کربلاء معلیٰ / حرمِ مقدس امامِ حُسین (ع)۔ / عراق کے حالات: اب اصلاحات ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے ، حرم مقدسہ کربلا
Untitled-2

عراق کے حالات: اب اصلاحات ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے ، حرم مقدسہ کربلا

اعلی دینی قیادت نے عراق کے حالیہ واقعات کے بارے میں ایک بیان جاری کیا ہے اور اپنی ان تجاویز کا ذکر کیا ہے جو اعلی دینی قیادت نے 2015ء میں ملکی مسائل کے حل اور عوام کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے پیش کی تھیں۔ اس بیان کو اعلی دینی قیادت کے خصوصی نمائندے اور روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے متولی شرعی علامہ سید احمد صافی (دامت برکاتہ) نے (4 صفر 1441ھ) بمطابق (4 اکتوبر 2019ء) کو نماز جمعہ کے دوسرے خطبہ کے دوران پڑھا۔ علامہ صافی نے روضہ مبارک امام حسین(ع) میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: میرے بھائیو اور بہنو! میں آپ کی خدمت میں نجف اشرف میں موجود اعلی دینی قیادت آیت اللہ العظمی سید علی حسینی سیستانی (دام ظلہ) کے مرکزی دفتر سے جاری ہونے والے بیان کو پڑھتا ہوں: پچھلے دنوں بغداد اور کچھ دیگر شہروں میں پرامن مظاہرین ، سیکیورٹی فورسز اور سرکاری و نجی املاک کو ناقابل قبول اور قابل مذمت حملوں کا نشانہ بنایا گیا، بہت سے موقعوں پر یہ مظاہرے ہنگاموں اور خونی جھڑپوں کی شکل اختیار کر گئے، جس کے نتیجے میں دسیوں افراد جاں بحق ہوئے، لوگوں کی بڑی تعداد زخمی ہوئی، اور حکومتی اداروں کو نقصان پہنچا، اس کے علاوہ بہت سے تکلیف دہ اور افسوسناک مناظر دیکھنے میں آئے۔ اسی طرح کے واقعات بعض پچھلے سالوں میں رونما ہو چکے ہیں۔ اعلیٰ دینی قیادت ہمیشہ سے حکام اور اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے والوں سے مطالبہ کرتی چلی آئی ہے کہ ملکی مسائل سے نمٹنے کے لئے اپنے طرز عمل میں تبدیلی لائیں اور حکومتی انتظامیہ میں اصلاح، اور بدعنوانی، صداقت کو نظرانداز کرنے اور آپسی بانٹ کے خلاف سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔ اعلی دینی قیادت نے اصلاحات میں رکاوٹ ڈالنے والوں اور مطالبات کی آواز کو کم کرنے والوں تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جان لیں کہ اب اصلاحات ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے ، اور اگر اصلاحات کا مطالبہ ابھی کچھ عرصے کے لئے کم بھی ہو گیا تو وہ زیادہ مضبوط اور وسیع طریقے کے ساتھ دوبارہ واپس آئے گا۔ آج اعلی دینی قیادت پہلے کی طرح پھر سے تینوں سرکاری قوات سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ حقیقی اصلاحات کی راہ میں واضح عملی اقدامات اٹھائیں، اعلی دینی قیادت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایوان نمائندگان قانون سازی اور نگرانی کے اختیارات رکھنے کی بدولت اس حوالے سے سب سے زیادہ ذمہ دار ہے ، جب تک کہ حکومت (بنانے والی سب سے بڑی پارٹی) اپنے طریقہ کار کو تبدیل نہیں کرے گی اور اصلاحات کے مطالبہ کا کوئی جواب نہیں دے گی اس وقت تک زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اسی طرح سے بدعنوانی سے نمٹنے ، کرپٹ لوگوں کو پکڑنے، اور عوام کا پیسہ ان سے واپس لینے کی ذمہ داری عدلیہ اور نگرانی کرنے والے اداروں کے کاندھوں پر بھی عائد ہوتی ہے ، لیکن انھوں نے بھی پہلے ایسا کچھ نہیں کیا جو اس سلسلے میں ضروری تھا۔ اگر یہ معاملہ اسی طرح باقی رہا تو ، ملک میں بدعنوانی کے خاتمے کی کوئی امید باقی نہیں رہے گی۔ حکومت کو اپنے فرائض کی انجام دہی کرنی ہو گی اور عوامی خدمات میں بہتری لا کر ، بے روزگار افراد کے لیے ملازمت کے مواقع فراہم کر کے اور سرکاری تقرریوں میں آپسی بانٹ سے احتناب کر کے عوام کی مشکلات کو کم کرنا ہو گا۔ حکومت کو چاہئے کہ تمہیدی طور پر جن پر بھی عوامی فنڈز میں ہیرا پھیری کے الزامات ہیں انھیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ان کے کیسز مکمل تیار کرے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ اعلی دینی قیادت کے دفتر نے 7 اگست 2015ء کو متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ کر کے اصلاحات کے عوامی مطالبے کو پورا کرنے کے لیے تجویز پیش کی تھی کہ (متعلقہ شعبہ جات کے ایسے معروف ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے جو حکومتی اداروں کا حصہ نہ ہوں اور جن کی سچائی یقینی ہو اور ان کی اعلی پیشہ وارانہ مہارت اور مکمل ایمانداری بھی معروف ہو۔ اس کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی جائے کہ وہ بدعنوانی سے نمٹنے اور مطلوبہ اصلاحات کے حصول کے لئے ضروری اقدامات کا تعین کرے، اس کمیٹی کے ارکان کو صورتحال سے دقیق آگاہی کی اجازت ہونی چاہیے اور یہ کمیٹی ملک میں مؤثر پروگراموں شرکت کرے اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ ملے بالخصوص مختلف شہروں میں مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقات کرے ان کے مطالبات اور خیالات کو سنے. جب کمیٹی اپنا کام مکمل کر لے اور مطلوبہ قانونی، یا تنفیذی، یا عدالتی اقدامات کی تعیین کر دے تو ان اقدامات کو قانونی طور پر عملی جامہ پہنایا جائے، چاہے اس کے لیے دینی قیادت اور عوام کی مدد ہی کیوں نہ لینی پڑے۔) لیکن اُس وقت اس تجویز پر عمل نہیں کیا گیا تھا، شاید موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے اس تجویز پر اِس وقت عمل کرنا مناسب ہو گا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ذمہ داری اور فیصلہ سازی کے عہدوں پر فائز افراد پر عقل، منطق اور ملکی مفاد حاوی رہے گا، تاکہ وقت کے ہاتھ سے نکلنے سے پہلے معاملات و امور کا تدارک کر سکیں۔ اور ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ ہر ایک احتجاجی تحریک میں تشدد اور انسداد تشدد کے استعمال کے مشوروں سے خبر دار اور اس کے سنگین نتائج سے آگاہ رہے گا۔ خدا سب کے ہاتھوں سے ایسے کام کروائے جن میں عراق اور اس کے عوام کی بھلائی ہے۔ والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ بھی ملاحظہ ہو

An Iraqi Shi'ite Muslim boy kisses a poster of the Ayatollah Ali al-Sistani in the town of Karbala, some 110 km south from the Iraqi capital Baghdad, early February 6, 2004. Iraq's most powerful Shi'ite cleric, Ayatollah Ali al-Sistani, survived an assassination bid on Thursday when gunmen opened fire on his entourage in the sacred streets of Najaf, a security aide said. The assassination attempt comes days before a team of United Nations electoral experts is due to arrive in the country to assess the feasibility of holding early elections along the lines that Sistani has demanded. REUTERS/Ali Jasim  PP04020063 OP/CRB - RTRC0XD

آیت‌الله سیستانی کا عراق میں حالیہ مظاہروں کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ

نامور مرجع تقلید نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ حالیہ مظاہروں اور ذمہ داروں …

پاسخ دهید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *