دوشنبه , دسامبر 9 2019
تازہ ترین
مرکزی صفحہ / کربلاء معلیٰ / حرمِ مقدس امامِ حُسین (ع)۔ / آیت‌الله سیستانی کا عراق میں حالیہ مظاہروں کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ
An Iraqi Shi'ite Muslim boy kisses a poster of the Ayatollah Ali al-Sistani in the town of Karbala, some 110 km south from the Iraqi capital Baghdad, early February 6, 2004. Iraq's most powerful Shi'ite cleric, Ayatollah Ali al-Sistani, survived an assassination bid on Thursday when gunmen opened fire on his entourage in the sacred streets of Najaf, a security aide said. The assassination attempt comes days before a team of United Nations electoral experts is due to arrive in the country to assess the feasibility of holding early elections along the lines that Sistani has demanded. REUTERS/Ali Jasim  PP04020063 OP/CRB - RTRC0XD
An Iraqi Shi'ite Muslim boy kisses a poster of the Ayatollah Ali al-Sistani in the town of Karbala, some 110 km south from the Iraqi capital Baghdad, early February 6, 2004. Iraq's most powerful Shi'ite cleric, Ayatollah Ali al-Sistani, survived an assassination bid on Thursday when gunmen opened fire on his entourage in the sacred streets of Najaf, a security aide said. The assassination attempt comes days before a team of United Nations electoral experts is due to arrive in the country to assess the feasibility of holding early elections along the lines that Sistani has demanded. REUTERS/Ali Jasim PP04020063 OP/CRB - RTRC0XD

آیت‌الله سیستانی کا عراق میں حالیہ مظاہروں کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ

نامور مرجع تقلید نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ حالیہ مظاہروں اور ذمہ داروں کے حوالے تحقیقات کرکے قصور واروں کو سامنے لایا جائے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ الفرات نیوز کے مطابق شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ سیستانی نے مظاہرین پر گولی چلانے والوں کو سامنے لانے کا مطالبہ کردیا۔

آیت اللہ سیستانی کے نمایندے شیخ عبدالمهدی کربلایی نے حرم امام حسین ع میں خطبے کے جمعے میں کہا کہ آیت اللہ سیستانی نے مظاہرین پر گولی چلانے کی مذمت کی ہے اور ذمہ داروں کو سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ مرجع تقلید نے عمومی اموال اور تشدد کرنے والوں کی بھی مذمت کی اور اس طرح کے رویے کو خطرناک قرار دیا ہے۔

خطیب جمعه کربلا نے خونریزی کی مذمت کی اور کہا ہے فرق نہیں پڑتا ہے کہ خون عوام کا بہا ہو یا سیکورٹی والوں کا دونوں صورتوں میں قابل قبول نہیں۔

انکا کہنا تھا کہ عدالت گولی چلانے یا حکم دینے والوں کے حوالے سے شفاف تحقیقات کرکے قصورواروں کو عوام کے سامنے پیش کرے۔

قابل ذکر ہے کہ عراق کے بعض شہروں میں مہنگائی اور بیروزگاری کے حوالے سے پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے جنمیں سو سے زاید افراد مارے گئے ۔/

یہ بھی ملاحظہ ہو

Untitled-2

عراق کے حالات: اب اصلاحات ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے ، حرم مقدسہ کربلا

اعلی دینی قیادت نے عراق کے حالیہ واقعات کے بارے میں ایک بیان جاری کیا …

پاسخ دهید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *